Sunday, 20 December 2015

وہ دیکھو کیسا آیا جھوم جھوم کے دسمبر



وہ دیکھو کیسا آیا جھوم جھوم کے دسمبر
خوشیاں ہی خوشیاں ساتھ لایا دسمبر

پہلا دن اس کا گزرا بڑی بے  چینی سے
دوسرا دن بھی  خموشی میں بتایا دسمبر

تین دسمبر کو میں نے اک انجانا خواب دیکھا 
چار کو میں نے چاند کا منظر پایا دسمبر

پانچ دسمبر کو اک دھندلی سی تصویر اُبھری
چھ اور سات کو رم جھم مینہ برسایا دسمبر

آٹھ دسمبر سبھی کام کیے بہت اُجلت میں
پھر بار بار موبل پہ نظریں جمایا دسمبر

نو دسمبر کا دن بیتا اور وہ روشن رات آئی
نیند تھی کوسوں دور پھر رات جگایا دسمبر

دس دسمبر کی وہ سہانی صبح آئی ساجن
میرے قلب و روح میں اُترا میرا رشکِ قمر

(عبدالرؤف ساجن)




Post a Comment