Tuesday, 22 December 2015

تو اُتر گیا ھے اب میرے دل و جان تلک


تو اُتر گیا ھے اب میرے دل و جان تلک
میری روح تلک، میرے گوشہ نہاں تلک

جا بجا بس تجھے ہی پایا ہے جلوہ نما
بادِ نسم کے نرم جھونکوں  سے کہکشاں تلک

زکر تیرا پایا کوہ قاف کے حسن خانوں میں
تیرے چرچے سُنے پریوں کے پرستاں تلک

تیری مہک پائی ،جہاں تک میری رسائی
چمن چمن ،کلی کلی، ہر گلستان تلک

تیرے وجود سے موجود ھے موسم بہار کا
رنگ بکھرے ہیں تیرے زمین و آسماں تلک

تُو رہے باقی ،جب تک ہے یہ جہان خاکی
 میرے گمان ، میرے حسنُ عشق کی داستان تلک

کب تک رہے گا تو یونہی چلمن کے پیچھے
 ساجن  چھپے گا رشکِ قمر کہاں تلک

(عبدالرؤف ساجن)




Monday, 21 December 2015

میں سو جاؤں یا مصطفٰی کہتے کہتے


میں سو جاؤں یا مصطفٰی کہتے کہتے
کھلےآنکھ صلی علیٰ کہتے کہتے

میں والیل پڑھنے لگا بے خودی میں
تیری زلف کا ماجرا کہتے کہتے

قیامت میں جب میں نے حضرت کو دیکھا
تڑپنے لگا والضحیٰ کہتے کہتے

نبی کی زیارت مد ینے میں ھو گی
مد نیے یہی چل دیا کہتے کہتے

ہزارو ہویئں مشکلیں میری آساں
فقط ایک مشکل کشا کہتے کہتے

وہ مالک ہے سب کا وہ بخشے گا سب کو
بُرا کہتے کہتے بھلا کہتے کہتے




Sunday, 20 December 2015

وہ دیکھو کیسا آیا جھوم جھوم کے دسمبر



وہ دیکھو کیسا آیا جھوم جھوم کے دسمبر
خوشیاں ہی خوشیاں ساتھ لایا دسمبر

پہلا دن اس کا گزرا بڑی بے  چینی سے
دوسرا دن بھی  خموشی میں بتایا دسمبر

تین دسمبر کو میں نے اک انجانا خواب دیکھا 
چار کو میں نے چاند کا منظر پایا دسمبر

پانچ دسمبر کو اک دھندلی سی تصویر اُبھری
چھ اور سات کو رم جھم مینہ برسایا دسمبر

آٹھ دسمبر سبھی کام کیے بہت اُجلت میں
پھر بار بار موبل پہ نظریں جمایا دسمبر

نو دسمبر کا دن بیتا اور وہ روشن رات آئی
نیند تھی کوسوں دور پھر رات جگایا دسمبر

دس دسمبر کی وہ سہانی صبح آئی ساجن
میرے قلب و روح میں اُترا میرا رشکِ قمر

(عبدالرؤف ساجن)